ویکسینز

ہمارا ویکسینز کا کاروبار دنیا کے سب سے بڑےکاروباروں میں سے ایک ۔ہے، جو 170 ممالک میں رہنے والوں کو روزانہ 2 ملین ویکسینز پہنچاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں ویکسینز کا سب سے بڑا کاروبار GSK کا ہے۔ GSK صنعت میں اپنے نمایاں مقام کی وجہ سے لوگوں کو بہتر کام کرنے، بہتر محسوس کرنے اور زیادہ لمبی زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرکے انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کےعزم پرگامزن ہے۔

 

کئی وبائی بیماریوں کے خلاف بچوں اور بڑوں دونوں ہی کے لئے GSK کا ویکسین کا پورٹ فولیو دنیا میں سب سے بڑا ہے۔ GSK کی ویکسین اس وقت سے لوگوں کو سنگین بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کررہی ہیں جب سے ہم نے 1950 کی دہائی میں اپنی پہلی پولیو ویکسین متعارف کروائی تھی۔

 60 سال کے عرصے میں GSK نے 30 سے زيادہ ویکسینز تیار کی ہيں، جن میں سے کئی مارکیٹ میں اپنی قسم کی پہلی تھیں، جیسے کہ روبیلا، خسرہ، چکن پاکس، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس اے کی ویکسینز ۔

 ایسی دیگر ویکسین جن میں GSK نے پہل کی، ان میں خناق،تشنج،کالی کھانسی اور پیٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس اے اور بی کے خلاف مرکب ویکسینز شامل ہیں۔ پچھلے چند سالوں میں GSK نے سرویکل کینسر، روٹاوائرس اور نیوموکوکول کے مرض کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والی کئی نئی ویکسینز تیار کی ہيں۔

 ممکنہ نئی ویکسینز میں ایسے کئی امراض شامل ہيں جو اب تک دنیا کو متاثر کررہے ہیں، جیسے کہ میلیریا، ایچ آئی وی، ٹی بی اور ایبولا۔

ہماری عالمی میراث میں GSK کی ویکسینز پاکستان میں 1989 سے مختلف بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کررہی ہيں، اور شیرخوار بچوں، بالغ بچوں اور بڑوں میں ایسے امراض کے لئے، جن کی روک تھام ممکن ہے، 18 ویکسینز رجسٹرڈ ہیں۔

 GSK نے پاکستان میں ان امراض کے لئے جن کی روک تھام ممکن ہے، تحفظ فراہم کرنے کے لئے تقریبا 65 ملین افراد کو 251 ملین سے زيادہ خوراکیں تقسیم کی ہيں۔

2015 کے ابتدائی حصے میں نووارٹس ویکسینز (علاوہ انفلوینزا کی ویکسینز) کے حصول کے بعد ہماری ویکسینز کی تعداد  میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے(جو اب تقریبا 40 ہوگئی ہے) اس کے ساتھ ہی زیر تشکیل ویکسینز کے بعد ہماری ویکسینز کا پورٹ فولیو دنیا بھر میں کسی بھی ویکسینز کمپنی سے بڑا ہوگیا ہے۔

 ہماری مارکیٹ

دنیا بھر میں ویکسینز کو کسی بھی حکومت یا صحت کی دیکھ بھال کے ادارے کا بہترین سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ 2012 میں WHO اور اس کے 194 ممبران ممالک نے ویکسینز کے بارے میں ایک ایکشن پلان شائع کیا تھا، جس کا مقصد 2020 تک لاکھوں اموات کی روک تھام تھا۔

اس میں تمام افراد کے لئے منصفانہ رسائی، نئی اور بہتر  ویکسینز کا تعارف، اور  ویکسینز اور ٹیکنالوجی کی اگلی نسل کے لئے تیزتر تحقیق و ترقی شامل ہے۔ مجموعی طور پر اس کا مطلب اگلے 10 سے 15 سالوں کے دوران ویکسینز کی عالمی مانگ میں اضافہ ہے۔

معیار اور تخلیق

2014 میں ہم نے دنیا بھر میں  ویکسینز کی 800 ملین سے زیادہ خوراکیں تقسیم کی تھیں۔ یہ ہمارے دنیا بھر میں موجود 14 تخلیقی مقامات پر تیار کی گئی تھیں۔ ہماری چند  ویکسینز کی تیاری میں دو سال سے زيادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

 عالمی معیار کو یقینی بنانے کے لئےاوسطاًویکسینز کے ہر بیچ (Batch) کوجاری کرنے سے پہلے 100 سے زیادہ معیاری چیک کئے جاتے ہیں۔ ہماری تمام  ویکسینز پر ایک ہی معیار کا اطلاق ہوتا ہے، قطع نظراس کے کہ اسے کہاں استعمال کیا جائے گا۔

 ہم اپنی تخلیقی سہولتوں میں مسلسل سرمایہ کاری کررہے ہيں، اپنے طریقہ کار میں بہتری لا رہے ہیں اور شراکتوں میں اضافہ کررہے ہیں تاکہ ہم اعلی معیار کی  ویکسینز کی بڑھتی ہوئی عالمی ضروریات کو  پورا کرسکيں۔

 تحقیق اور اشتراک

سائنسی ترقی ہماری تخلیقی صلاحیتوں کا مرکزی حصہ ہے، اور ہم نئی ویکسینز تخلیق  کرنے اوراس کی  تیاری میں سرمایہ کاری کرتے رہتے ہیں، تاکہ ہم ان بیماریوں کے خلاف تحفظ حاصل کرسکيں جن کی اب تک  ویکسینز دستیاب نہيں ہیں، اور موجودہ  ویکسینز کو بہتر بناسکيں ۔ اس تحقیق میں ملیریا، ایچ آئی وی اور ٹی بی کے خلاف نئی  ویکسینز کی تلاش  میں ہماری کوششیں بھی شامل ہیں۔

ہم اس وقت دور دراز بسنے والے لوگوں  تک اپنی  ویکسین پہنچانے کے چیلنجز کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جہاں اس وقت کئی  ویکسینز کی فراہمی اور نقل و حمل کے دوران مستقل کم درجہ حرارت پر رکھنے کی ضرورت ہے۔

ہماری اس وقت محض تحقیق و ترقی میں 100 سے زائد شراکتیں ہیں، اور دنیا کے انتہائی ضرورت مند علاقوں کی صحت کی دیکھ بھال کے چیلنجز کو حل کرنے کے لئے حکومت، ہیلتھ کئیر فراہم کنندگان، ضابطہ کاروں، تعلیمی اداروں، غیرسرکاری انجمنوں ،  ویکسین تخلیق کرنے والوں اور دیگر اہم شرکاء کے ساتھ کام کرنے کا لمبا ٹریک ریکارڈ ہے۔